Return of SpaceX's Dragon Cargo

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
 

Return of SpaceX's Dragon Cargo
SpaceX's dragon cargo is being sent to Earth tonight by the International Space Station. It contains a lot of research material for scientists. The capsule will be unloaded from space at 9:12 a.m. Eastern time on September 30, carrying 2900 kilograms of material, while the space station is currently passing over the Atlantic Ocean. 

The capsule is being launched at the direction of SpaceX's headquarters in California, and will be monitored by NASA astronaut Shane Cambro from the International Space Station. "We are grateful to the SpaceX and NASA teams for delivering this vehicle to us in such excellent condition," he said. Waiting for a safe landing on his land. The spacecraft will land in the Florida Sea at around 11pm on October 1 and will be flown to NASA's Kennedy Space Station, a processing facility near the ocean. 
This small distance is actually of special importance because the spacecraft contains micro-gravity experimental material that could affect the results if it remains in the Earth's gravity for some time. Most of these experiments are biomedical, including Alzheimer's, Parkinson's and type 2 diabetes, muscle disorders and genetic material.

 The researchers will look at these biological and medical samples to determine if the results will be the same before and after the effects of gravity on these diseases, and then conduct further research on samples of these diseases in laboratories on Earth. 
Will go The spacecraft has been on the space station since September 30. The capsule was launched from the Kennedy Space Center by SpaceX's 23rd Commercial Reply Mission. The next spacecraft will be launched in early December under the same program.


سپیس ایکس کی ڈریگن کارگو کی واپسی :
سپیس ایکس کی ڈریگن کارگو کو آج رات انٹر نیشنل سپیس سٹیشن کی جانب سے زمین پر روانہ کیا جا رہا ہے اس میں سائنسدانوں کے لئے ریسرچ کا بہت سا مواد موجود ہے ۔ یہ کیپسول تیس ستمبر کو ایسٹرن ٹائم کے مطابق پورے نو بج کر بارہ منٹ پر انتیس سو کلوگرام کا مواد لے کر سپیس سے واپس زمین پر اتارا جائے گا جبکہ سپیس اسٹیشن اسوقت بحر اوقیانوس کے اوپر سے گزر رہا ہو گا ۔ کیلیفورنیا میں سپیس ایکس کے ہیڈ کوارٹرز کی ہدایات پر اس کیپسول کو زمین پر اتارا جا رہا ہے اور انٹر نیشنل سپیس سٹیشن سے ناسا کے خلاباز شین کمبرو اس کو مانیٹر کریں گے ۔ انکا کہنا ہے کہ سپیس ایکس اور ناسا کی ٹیمز کا اس گاڑی کو اتنی بہترین حالت میں ہمارے تک پہنچانے پر ہم ان کے شکرگزار ہیں یہ کیپسول بہت سے سائنسی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہماری ٹیم اس کے ساتھ پورا مہینہ مصروف رہی اور اب ہم اسکی زمین پر بحفاظت لینڈنگ کا انتظار کر رہے ہیں ۔
 یہ خلائی جہاز یکم اکتوبر کو رات گیارہ بجے کے قریب فلوریڈا کے سمندر میں اترے گا اور وہاں سے ناسا کے پروسیسنگ سہولتی سپیس سٹیشن کینیڈی سپیس سٹیشن پہنچایا جائے گا جو کہ اس سمندر سے قریب ہی واقع ہے ۔
 یہ تھوڑا سا فاصلہ دراصل خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس خلائی جہاز میں مائیکرو گریویٹی کا تجرباتی مواد موجود ہے جو کہ اگر کچھ دیر تک زمین کی گریویٹی میں موجود رہے تو اس کے رزلٹس متاثر ہو سکتے ہیں ۔

ان میں زیادہ تر تجربات بائیو میڈیکل کے ہیں جس میں الزائمرز، پارکنسنز اور ذیابیطس قسم 2 ، پٹھوں کی خرابی اور جینیاتی مواد شامل ہے ۔ ریسرچرز بیالوجی اور میڈیکل کے ان سیمپلز کو دیکھ کے یہ اندازہ لگائیں گے کہ ان بیماریوں پر گریویٹی کا اثر پڑنے سے پہلے اور بعد میں کیا رزلٹس ایک جیسے رہیں گے اور اس کے بعد زمین پر موجود لیبارٹریوں میں ان بیماریوں کے سیمپلز پر مزید تحقیق کی جائے گی ۔
یہ خلائی جہاز تیس ستمبر سے سپیس سٹیشن پر موجود تھا اس کیپسول کو کینیڈی سپیس سنٹر سے سپیس ایکس کے تیئسویں کمرشل ری سپلائی مشن کی طرف سے لانچ کیا گیا ۔ اگلا خلائی جہاز اسی پروگرام کے تحت دسمبر کے آغاز میں بھیجا جائے گا ۔

0/Post a Comment/Comments